زینب کی لاش کے بدلے 10ہزار مانگنے والی پنجاب پولیس کا ایک اور کارنامہ، شہری کی بیوی 3لاکھ روپےمیں بیچ ڈالی، ایس ایچ و تھانے میں کیا گھنائونا کام کرتا رہا،شرمناک انکشاف

زینب قتل کیس میں پنجاب پولیس کی نا اہلی، نالائقی کیساتھ رشوت ستانی کا واقعہ بھی منظر عام پر آیا ہے ۔ پنجاب پولیس کی رشوت خوری کی اب ایسی ایسی داستانیں سامنے آرہی ہیں کہ روح کانپ جاتی ہے۔ کرپٹ ایس ایچ اوز اور تفتیشی افسران جنہیں سیاسی پشت پناہی حاصل ہے نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔ لوگوں کی عزتوں، جان و مال کے محافظ اپنا فرضبھول کر ڈاکو اور دلال بن بیٹھے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ لودھراں کے علاقے چک نمبر 219بی میں بھی پیش آیا

جہاں پولیس نے شہری کیبیوی 3لاکھ روپے کے عوض ملزمان کو بیچ ڈالی۔ روزنامہ خبریں کے مطابق چک نمبر 219 ڈبلیو بی کے رہائشی علی نے اپنے سسر محمد صدیق ور دیگر اہل محلہ نے بتایا کہ اسکی شادی 2014ءمیں اس کے چچا محمد صدیق کی بیٹی عابدہ پروین کے ساتھ ہوئی، وہ اپنی زندگی میں بہت خوش تھے مگر اس کے بطن سے عرصہ 4 سال گزرنے کے باوجود کوئی اولاد نہ ہے، جس کی وجہ سے اس کی بیوی عابدہ پروین اڈہ ذخیرہ پر موجود ڈاکٹر سے علاج کروارہی تھی،ف وزیہ بی بی جو کہ ملزم محمد سجاد اور محمد شہباز کی بھابھی ہے اور محمد یونس کی بیوی ہے، ان کی تین بہنیں اور ایک بھانجی جو کہ چک نمبر 219ڈبلیو بی میں ہی شادی ہوکر رہائش پذیر کے گھر آنا جانا تھا اور اس کی ملاقات میری بیوی عابدہ پروین کے ساتھ ڈاکٹر کے کلینک پر ہوئی اور پھر ان کی آپس میں دوستی ہوگئی اور گھر آنا جانا شروع ہوگیا۔ میری بیوی عابدہ پروین نے فوزیہ بی بی کو اولاد نہ ہونے کا مسئلہ بتایا،

جس پر فوزیہ بی بی نے میری بیوی عابدہ پروین کو سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے دیور محمد سجاد کے ساتھ ناجائز مراسم استوار کرنے پر ورغلایا پھسلایا کیونکہ محمد سجاد نے میری بیوی پر ڈاکٹر کے کلینک پر ہی گندی نظر رکھ لی مگر میری بیوی عابدہ پرویناس پر آمادہ نہ ہوئی اور اس کی بے عزتی کرکے اس کو گھر سے جانے کیلئے کہا۔ میری بیوی عابدہ پروین نے مجھے ساری حقیقت بتائی مگر فوزیہ بی بی اور اس کے دیور محمد سجاد نے میری بیو کا جواب سن کر اس بات کی رنجش بنالی اور میری بیوی سے بدلہ لینے کے لئے موقع تلاش کرنے لگا۔مورخہ28 اگست 2017ءکو رات تقریباً 8 بجے میں جب اپنے والدین کے گھر ،جو کہ میرے گھر سےبالکل ملحقہ ہے، کے گھر ٹیلی ویژن دیکھ رہا تھا اور میری بیوی عابدہ پروین جو کہ گھر میں اکیلی تھی کو اکیلا پاکر فوزیہ بی بی اپنے دیور محمد سجاد، محمد شہباز اور دو کس نامعلوم افراد کے ہمراہ میرے گھر میں داخل ہوگئے

اور میری بیوی عابدہ پروین کو دبوچ لیا اور اس کی کنپٹی پر پسٹل رکھ دیا اور دھمکی دی کہ اگر شور کیا اور ہمارے ساتھ جانے سے انکار کیا تو جان سے ہاتھ دھو بیٹھو گی۔میری بیوی نے جانے سے انکار کیا جس پر انہوں نے اسے زبردستی اٹھالیا اور باہر کھڑی سفید کیری ڈبہ گاڑی میں اسے ڈال لیا۔ ملزم کی قید سے بازیابی کیلئے درخواست گزاری جس پر ایس ایچ او تھانہ صدر دنیا پور رانا نیک محمد نے ہمیں کہا کہ ملزمان چونکہ بااثر ہیں اس لئے ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنا ممکن نہیں، لہٰذا اس مسئلے کو یہیں ختم کردو، جس پر ہم نے مقامی ایم پی اے کیمنت سماجت کی جس پر انہوں نے ایس ایچ او رانا نیک محمد کو فان کال کی۔ ہم تھانے آئے، تھانے میں آتے ہی ایس ایچ او رانا نیک محمد نے ہمیں تفتیشی افسر شمس خان کے پاس بھجوادیا، تفتیشی افسیر ایس آئی شمس خان نے ہمیں کہا کہ چونکہ تمہارے ملزمان بااثر ہیں ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے تمہیں رقم خرچ کرنی پڑے گی

اور مبینہ طور پر 50 ہزار کی ڈیمانڈ رکھ دی، منت سماجت پر20 ہزار روپے لے کر ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 506/17 زیر دفعہ 496 ت پ مورخہ 21 نومبر 2017ءکو درج کیا اور چائے پانی کی غرض سے 1000 روپے مزید لئے اور نقشہ مضروبی کے لئے بھی 10ہزار کی ڈیمانڈ رکھ دی مگر نقشہ مضروبی کیلئے 10 روپے بھی لے لئے بعدازاں کچھ روز گزرگئے مگر ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی گئی جس پر ہم نےایس ایچ او تھانہ صدر رانا نیک محمد سے التجا کی جس پر ایس ایچ او نے ہمیں یہ کہہ کر ٹال دیا کہ بناءرقم ملزمان پر ریٹ نہیں کی جاسکتی۔ ہم نے ایس ایچ او رانا نیک محمد اور تفتیشی افسر ایس آئی شمس خان کو مبلغ 20 ہزار روپے ملزمان پر ریٹ کئے جانے کیلئے دئیے جس پر ملزمان کے خلاف ریٹ کی گئی اور ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔ جب تھانے میں آمنے سامنے ہوئے توملزمان نےایس ایچ او اور تفتیشی افسر کے سامنے اقرار کیا

کہ ہم سے غلطی ہوگئی ہے اور ہم نے شرعی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، ہم سنگسار کے قابل ہیں مگر اب ہم اپنے کئے پر پشیمان ہیں اور ہم اپنی غلطی کو سدھارنا چاہتے ہیں۔ ہمیں صرف دو گھنٹے کا ٹائم دیا جائے ہم عابدہ کو کہیں بٹھا رکھا ہے ، ہم ان کو سونپ دیتے ہیں۔ایس ایچ او رانا نیک محمد نے کہا تم لوگ گھر چلے جاؤ میں خود عابدہ کو لے کرتمہارے گھر آتا ہوں، ہمارے جاتے ہی ایس ایچ او رانا نیک محمد اور تفتیشی افسر ایس آئی شمس خان ملزمان کے ساتھ مبینہ طور پر 3 لاکھ لے کر ساز باز ہوگئے اور میری بیوی کو برآمد کئے بغیر تمام ملزمان کو چھوڑ دیا۔ تھانے میں دوران انکوائری ملزمان کو کرسیوں پر بٹھایا جاتا ہے جبکہ ہمیں تھانے کے دروازے پر سے ہی دھکے مار کر نکال دیا جاتا ہے۔ ہم نے ڈی ایس پی دنیا پور کودرخواست گزاری مگر ڈی ایس پی دنیا پور نے بھی ایس ایچ او کے ساتھ مل کر ملزمان کے ساتھ ساز باز ہوگیا

اور ہمیں انصاف دلانے کی بجائے الٹا ہمیں ہی ڈرایا دھمکایا جانے لگا اور ہمیں دھمکی دی کہ تم خواہ وزیراعلیٰ پنجاب یا آئی جی پنجاب یا آر پی او ملتان کے پاس چلے جاؤ تو بالآخر فیصلہ تو میں نے ہی کرنا ہے۔ مظلومین نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس پاکستان، آر پی او ملتان سےعابدہ پروین کی بازیابی کی اپیل اور ملزمان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی اپیل کی اور کہا کہ اگر انصاف نہ ملا تو ہم ڈی پی او آفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر خود سوزی کرلیں گے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں