ہوشیار خبر دار:مضر صحت قرار ، چیف جسٹس نے چار کمپنیوں کے دودھ کی فروخت پر پابندی لگا دی ، مارکیٹ جانے سے پہلے یہ خبر پڑھ لیں

چیف جسٹس نے 4 نجی کمپنیوں کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔ چیف جسٹس نے 2 نجی کمپنیوں پر جرمانہ بھی عائد کر دیا۔تفصیلات کے مطابق کمپنیوں کے دودھ کے معیار سے متعلق کیس کی سماعت سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ہوئی۔ چیف جسٹس نے 4 کمپنیوں کے دودھ کی فروخت پر پابندی عائد کردی۔عدالت کا کہنا ہے کہ نجی کمپنیوں کے دودھ کی سیل، مارکیٹ اور فروخت بند کی جائے۔ دودھ کے ڈبوں پر لکھا جائے کہ یہ ٹی وائٹنر ہے دودھ نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ رپورٹ میں متعدد کمپنیوں کا دودھ ناقص پایا گیا ہے۔دوسری جانب نجی کمپنیوں کے وکلا نے دودھ سے متعلق رپورٹ پر اعتراض کیا ہے۔ وکلا نے استدعا کی کہ لیبارٹریز سے دوبارہ ٹیسٹ کروائے جائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ ناقص دودھ بیچ رہے ہیں، کل لاہور جا کر وہاں بھی یہ معاملہ دیکھیں گے۔ بتایا جائے کہ بھینسوں کو لگائے جانے والے کتنے ٹیکے پکڑے۔خیال رہے اس سے قبل سپریم کورٹ نے ملک بھر میں دودھ کی پیداوارکے لیے بھینسوں کو ٹیکے لگانے پر پابندی عائد کردی تھی ۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے لاہور رجسٹری میں ملاوٹ شدہ دودھ کی فروخت کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں میں استعمال ہونے والے کیمیکل کی درآمد پر

پابندی کا حکم امتناعی خارج کرتے ہوئے بھینسوں کو ٹیکے لگانے پر پابندی عائد کردی۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں دودھ کی پیداواربڑھانے کے لیے بھینسوں کو لگائے جانے والے انجیکشن سے کینسر جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں،بچے اور بڑے سبھی کینسر زدہ دودھ پینے پر مجبور ہیں، ہماری بچیاں وقت سے پہلے ہی بوڑھی ہورہی ہیں۔چیف جسٹس نے دودھ بیچنے والی کمپنیوں سے استفسار کیا کہ پاکستان میں ڈبے کے تمام دودھ جعلی اورمضرِصحت ہیں، ڈبہ پیک دودھ میں فارمولین کیمیکل موجود ہے جو کہ انسانی صحت کےلیے انتہائی خطرناک ہے، بتائیں کیا ٹی وائٹنردودھ کا متبادل ہے، جس پر ڈبہ پیک دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے وکیل نے جواب دیا کہ ہم نے کبھی دعوی نہیں کیا کہ ٹی وائٹنر دودھ کا متبادل ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ دودھ کے ڈبے کی تبدیلی کتنے عرصے میں کردیں گے، ڈبہ پیک دودھ فروخت کرنے والی کمپنیوں کے وکیل نے جواب میں چارماہ کا وقت مانگا تو چیف جسٹس نے کہا کہ 4 ماہ کا عرصہ بہت زیادہ ہے ایک ماہ میں ڈبہ تبدیل کریں اوراس لکھیں کہ یہ دودھ نہیں ہے، جتنا پرانا اسٹاک ہے اسے ضائع کردیں۔ کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں بعد ہوگی۔دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے شہر میں سڑکوں کی بندش کا نوٹس لے لیا۔چیف جسٹس نے چیف سیکریٹری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بھی ایک چھوٹا سا وی وی آئی پی ہوں، غالبا وی آئی پی کی فہرست میں میرا تیسرا نمبر ہے، چیف سیکرٹری صاحب، بتائیں بڑے صاحبان کے لیے رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جاتی ہے، آپ کو علم ہونا چاہیےکہ راستے بند کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے

Comments

comments

کیٹاگری میں : صحت

اپنا تبصرہ بھیجیں