شکر گزاری اور مثبت سوچ کے نتائج

اپنی کوئی ایسی رات یاد کرو جب تم صبح تک سو نہیں پائے حالانکہ اگلے دن تم نے بہت سے آفس کے اہم کام نبٹانے تھے. اور جب آنکھ کھلی تو لیٹ تھے، جلدی سے اٹھے، شاور لیا، ناشتہ کیا اور ٹریفک سے جنگ کرنیکے لیے نکل کھڑے ہوئے.

بہت سے لوگ ایسا دن یاد کر کہ ایک ٹھنڈی آہ بھریں گے، یہ عام لوگ ہیں ، لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو ایسا دن یاد کر کہ بھی ذرہ برابر بھی غمگین نہیں ہوں گے. یہ خاص لوگ ہیں، ان کو ان کی مثبت سوچ اور شکر گزاری باقیوں سے مختلف بناتی ہے. جو لوگ ہر حال میں شکر ادا کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں وہ اس بات پر دھیان دیتے ہیں کہ ان کے پاس کیا کچھ اچھا ہے بجائے اس کے کہ وہ یہ کہ وہ یہ سوچیں کہ میرے پاس کون کون سی ایسی چیز نہیں ہے جو مجھے چاہیے تھی. ایک مثبت سوچ والا انسان یہ نہیں سوچے گا کہ میرے پاس تو جوتے بھی نہیں ہے بلکہ وہ سوچے کا کہ شکر ہے میں ایسے لوگوں سے بہت بہتر ہوں جن کے پاس پاؤں بھی نہیں ہیں. اپنے سے نیچے والے لوگوں کو دیکھ کر انسان اس بات کا شکر کرتا ہے کہ اگر اسے روز اٹھ کر آفس جانا پڑتا ہے تو اس کے پاس کوئی کام کاج تو ہے، بہت سے لوگ روز صبح گلیوں، سڑکوں پر جاگتے ہیں، کھانے کو روٹی نہیں ہوتی اور سونے کو بستر نہیں ہوتا، بہت سے لوگوں کے سر پر چھت نہیں ہوتی. وہ سب دیکھو جو تمہارے پاس ہے، وہ نہیں جو تمہاری خواہش ہے. جو لوگ خود کو ہر حال میں شکر ادا کرنے کی عادت ڈال لیتے ہیں

ان میں قناعت پسندی پیدا ہو جاتی ہے اور کسی بہت بڑے فلاسفر کا قول تھا کہ خوشی ہر وہ شے حاصل کر لینا نہیں ہے جو تمہیں پسند ہو، خوشی خواہشات کو مار لینے کا نام ہے. جو انسان اپنی مرادیں کم کر لیتا ہے، سکون ، خوشی اور مسرت اس کے دل میں گھر کر لیتے ہیں. جب کسی دن صحت خراب ہو جاتی ہے تو کیسے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے. انسان کی فطرت ایسی ہے کہ جو شے اسے ملی ہوئی ہو وہ اس کی قدر نہیں کرتا اور جب کوئی بھی نعمت چھن جاتی ہے تو اسی کی حسرت میں اتنا وقت ضائع کر دیتا ہے. بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ اپنے آپ کو خوشی کا حقیقی مفہوم سمجھا سکیں. جو بھی چیز درد دے اس سے نجات حاصل کر لو. جو انسان تمہاری بار بار د ل آزاری کرے، حوصلہ شکنی کرے اس سے کنارہ کشی اختیار کرو. جو چیز صحت بگاڑے، اس سے اجتناب کرو. جب دل میں درد ہو کہ میرے پاس یہ کیوں نہیں ہے، وہ کیوں نہیں ہے تو اپنے آپ کو باور کر اؤ کہ اگر صحت بھی نہ ہوتی، چھت بھی نہ ہوتی، کھانا بھی نہ ہوتا. اگر مجھے کسی دشمن ملک میں گولیوں کی بوچھاڑ میں سونا پڑتا. حالات جیسے بھی ہوں یہ سوچ کر شکر کرو کہ اس سے بہت برے ابھی بھی ہو سکتے ہیں.سب سے بڑا دشمن تمہارا ہر وہ خیال اور خوف ہے جو تمہارے دماغ پر ہاوی ہو جاتا ہے، یہ خوف ہر ایک کے لیے

مختلف ہو سکتا ہے. اس خوف کو پہچانو اور اسے سے بھاگو نہیں اس کا ڈٹ کر مقابلہ کرو

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں