حسین امیر فرہاد

یہ 1979ء کا واقعہ ہے، ان دنوں میں کویت کی ایک کمپنی میں مندوب تعلقات العامہ (افسر تعلقات عامہ) تھا. ہمارے ڈائریکٹر نے سری لنکا سے گھر کے کام کاج کے لئے ایک خادمہ منگائی، دوسرے دن مجھ سے کہنے لگے کہ اس کو واپس بھیج دو کیوں کہ ہمارے کسی کام کی نہیں نا تو یہ عربی جانتی ہے اور نا انگریزی.

سو میں اسکی کی دستاویزات لے کر متعلقہ جگہ پہنچا تو پتہ چلا کہ فی الحال سری لنکن سفارت موجود نہیںالبتہ برطانوی ہی سری لنکن باشندوں کے معاملا ت دیکھتے ہیں. برٹش کونسل میں استقبالیہ کلرک نے میرا کارڈ دیکھا تو مسٹر ولسن سے ملایا. وہ بڑے تپاک سے ملے اور بٹھایا، جب اس نے اندازہ لگایا کہ میں بھارتی یا پاکستانی ہوں تو اردو میں کہا، میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟”میں نے سری لنکن خادمہ کے متعلق بتایا، اس نے کہا کوئی مسئلہ نہیں اسے ہم رکھ لیں گے.

آپ کا جو خرچہ آیا ہے وہ ہم ادا کر دیں گے. یہ بتاو کہاں کے رہنے والے ہو؟میں نے کہا پاکستان سے،وہ بولا وہ تو بہت بڑا ملک ہے،میں نے کہا پشاور کا رہنے والا ہوں،پشتو میں پوچھنے لگا کے کون سی جگہ میں نے بتایا “نوشہرہ”جب میں نے گاوں کا نام بتایا تو اس کی آنکھوں میں عجیب چمک پیدا ہو گئی. پھر وہ مختلف لوگوں کا پوچھنے لگا، میں نے میں نے بتایا کہ کون مر گیا اور کون زندہ ہے. میں نے سوچا ہو سکتا ہے نوشہرہ چھاونی میں ملازمت کرتا رہا ہو، لیکن اس کی عمر زیادہ نہیں تھی. لیکن اس نے کچھ اور کہانی سنائی. پہلے اس نے کافی منگائی پھر انٹر کام پر کلرک سے کہا کہ اس کے پاس کسی کو مت بھیجنا. وہ اتنا خوش تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا. کافی کے دوران اس نے بتایا”میں آپ کے گاوں، محلہ عیسٰی خیل میں چار سال تک پیش امام رہاہوں.میں نے پوچھا” کیا آپ مسلمان ہیں؟”وہ بولا” میں چار سال آپ کے گاوں کا نمک کھایا ہے. آپ کے گاوں والوں نے مجھے بڑی عزت دی. میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا. میں عیسائی ہوں یعنی اہل کتاب”.اس کے بعد میرا اس کے ہاں آناجانا رہا. وہ مجھے اپنا ہم وطن سمجھتا رہا اور تقریباً میرا ہم عمر تھا. تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارے ہاں پاکستان بننے کے بعد رہا تھا. ایک دن میں نے پوچھا “آپ پٹھانوں کا کھانا کیسے کھاتے رہے؟”وہ کہنے لگا” آپ لوگوں کا کھانا اتنا مزیدار ہوتا ہے کہ میں یہاں آج بھی گھر جاتے ہوئے ایرانی تندور سے روٹی لے کر موٹر میں روکھی کھاتا ہوں”.جب میں کویت سے پاکستان آ رہا تھا تو میں نے اس سے وہی سوال پوچھا جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہا تھا.

میں نے دریافت کیا” اب تو بتادو کہ تم عیسائی ہو کر پٹھانوں کے گاوں میں روکھی سوکھی کھاتے اور پیش امام کی خدمات انجام دیتے رہے……آخر کیوں؟وہ کافی دیر سرجھکائے سوچتا رہاپھر سر اٹھا کر میری آنکھوں میں جھانکا اور کہا “ہمیں اپنے ملک کے مفادات کی خاطر بعض اوقات بہت کچھ کرنا پڑتا ہے. ہمارے ہاں لندن کے مضافات میں ایک مرکز ہے جہاں شکل وشباہت دیکھ کر انگریزوں کی بیرونی مذاہب اور زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے. وہاں سے فارغ تحصیل ہو کر پھر ہمیں مختلف ممالک اور علاقوں میں بھیجا جاتا ہے.”گاوں آکر میں محلہ عیسٰی خیل کے بزرگوں کو یہ واقعہ سنایا توایک بوڑھے طالب گل نے کہا” مجھے شک پڑاتھامگر سب کہہ رہے تھے کہ چترالی ہے. وہاں اکثر چترالی مولوی پیش امام ہیں. وہ بھی گورے ہیں بلکل انگریزوں کی طرح. پھر طالب گل نے کہا “چلو بھائی اب چار سال کی نمازیں لوٹائیں جو ہم نے انگریز کے پیچھے پڑھیں……خانہ خراب ہو اس کا.”جب میں نے جنگل کی حویلی کا پڑھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ مسٹر ولسن بھی ضروراسی جنگل کی حویلی کا پروردہ تھا…

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں