اں بیٹی کے کمرے میں آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کا استاد اسکی 19سالہ خوبصورت بیٹی کو برہنہ کرکے ایک ٹیبل پر لٹا ک

برلن (مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی معاشرہ شخصی آزادی اور روشن خیالی کے جنون میں اندھا دھند آگے بڑھ رہا ہے اور پھر ا ن قباحتوں کی بلندی کو چھونے کے بعد یہ معاشرہ خود کو انتہائی پستی میں گرا ہوا بھی محسوس کرتا ہے۔ ایسا ہی یورپی ملک جرمنی میں ہوا جہاں ایک ہوم ٹیوٹر اور ایک طالبہ کی شرمناک کہانی منظر عام پر آگئی۔

ایک غیر ملکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کے شہربرلن کے جنوب مغربی علاقے پوسٹ ڈیم میں مقیم ایک میاں بیوی نے اپنی بیٹی کو میوزک کی تعلیم دینے کےلئے ایک ہوم ٹیوٹر کا اہتمام کا کیا اور پھر جو ہوا اس کا انکشاف خود اس گھر کی ملازمہ نے کر دیا ۔
اس خاتون ملازمہ الزبتھ کا کہنا ہے کہ 45سالہ مارک گرین وچ اور اس کی اہلیہ بلینڈا نے اپنی 19سالہ بیٹی بریتھ ویٹ کےلئے ایک مشہور میوزک ٹیچر فرینکلن کی خدمات حاصل کیں ۔فرینکلن بڑی با قاعدگی سے روزانہ بریتھ ویٹ کے کمرے میں جا کر اسے گٹار بجانے اور گلوکاری سکھانے کا کام کرتا رہا۔
مارک اور اس کی بیوی قریب قریب ہر شام ہی یا اپنے رشتہ داروں کے ہاں چلے جاتے یا پھر وہ کسی تفریحی مقام پر چلے جاتے۔اور پھر اکثررات کا کھانا باہر سے کھا کر آتے۔ الزبتھ کہتی ہے کہ ایک روز اس نے گھر کی صفائی کاکام مکمل کیا تو گھر پر سوائے بریتھ ویٹ اور اس کے استاد کے کوئی بھی نہ تھا۔
میں نے بریتھ ویٹ کوبتایا کہ اگر کچھ چاہیے تو میں بنا دیتی ہوں ۔اس نے کہا کہ ہم دونوں کےلئے کافی بنا د و اور پھر تم چلی جاؤ۔ میں نے ان دونو ںکو کافی تیار کرکے دی اور اپنے گھر کی طرف چل دی۔راستے میں مجھے یاد آیا کہ میں اپنے گھر کی چابیاں بریتھ کے کمرے میں ہی چھوڑ آئی ہوں۔ میںا ٓدھے راستے سے واپس آئی۔
اور بریتھ ویٹ کے کمرے کے دروازے پر پہنچی تو دروازہ بند پایا۔ اس سے پہلے کہ میں دستک دیتی ۔مجھے کچھ عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں۔ مجھے شک ہوا۔مجھے یہ ٹھیک نہیں لگا کہ میں دروازہ کھٹکھٹاؤں اور وہ دونوں محتاط ہو جائیں یا پھر شرمندہ ہو جائیں۔

لیکن اپنے شک کو یقین میں بدلنے کےلئے میں اس کمرے کی عقبی جانب گئی جہاں پر بریتھ ویٹ کے کمرے کی کھڑکی تھی۔میں نے بڑی احتیاط سے کھڑی کے پردے کی اوٹ سے اندر کا منظر دیکھا کہ وہ دونوں مکمل طور پر برہنہ ہیں اور فرینکلن بریتھ ویٹ کو ایک ٹیبل پر دراز کیے ہوئے ہے اور دونوں اپنی جسمانی پیاس بجھا رہے ہیں۔
مجھے یہ منظر دیکھ کر بہت زیادہ ڈر لگا۔میں نے دو یاتین دن بعد بریتھ ویٹ کی ماں کو ساری بات تفصیل سے بتائی تو وہ بھی تشویش میں مبتلا ہو گئی۔پھر اس نے ایک روز فرینکلن کو کچھ پیسے ادا کیے اور کہا کہ اب اس کے مزید آنے کی ضرورت نہیں۔
الزبتھ کا کہنا ہے کہ فرینکلن اس روز کے بعد نہیں آیا اور بریتھ ویٹ نے اس کا کوئی گلہ تو نہیں کیا لیکن وہ اکثر اب گھر سے باہر ہی رہتی ہے۔

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں