پاکستان میں لڑکیوں کے مخصوص اعضا میں تیزی سے کیا تبدیلی آرہی ہے ؟ لرزہ خیز خبر

پیر کی شام اسلام آباد کی فیصل مسجد گلابی رنگ سے دھل گئی جس کا مقصد بریسٹ کینسر یا چھاتی کے سرطان کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے۔پاکستان میں بریسٹ کینسر کے لیے کام کرنے والی تنظیم پِنک ربن کے چیف ایگزیکٹیو عمر آفتاب کے مطابق ایشیا میں پاکستان میں بریسٹ کینسر سب سے زیادہ ہے اور پاکستان میں ہر نو خواتین میں سے ایک کو بریسٹ کینسر ہونے کا خطرہ ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں نو میں سے ایک عورت کو بریسٹ کینسر ہونے کے خطرے کا مطلب یہ ہے کہ ملک میں تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ خواتین کو یہ کینسر ہونے کا خطرہ ہے۔ یہ تعداد اسلام آباد کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔عمر آفتاب نے بتایا کہ گذشتہ 13 برس سے پِنک ربن بریسٹ کینسر کے لیے کام کر رہی ہے۔

پِنک ربن نے ایک ماہ کی مہم کا آغاز کیا ہے جس میں وہ بریسٹ کینسر کے بارے میں آگاہی پھیلائیں گے اور اسی سلسلے میں پیر کو اسلام آباد کی فیصل مسجد کو لائٹوں سے گلابی رنگ دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واحد کینسر ہے جس کی تشخیص جلد ہو سکتی ہے اور اس کی علامات بیرونی ہوتی ہیں۔ ‘بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں چھاتی کے سرطان کو جنسیت سے جوڑا جاتا ہے۔

اسی وجہ سے اگر کوئی عورت ان علامات کو جان بھی لیتی ہے تو وہ پہلے تو اپنے خاندان والوں کو بتاتی نہیں اور چھپاتی ہے۔ اگر خاندان والوں کو بتا بھی دیتی ہے تو خاندان والے اس کو باعث شرم سمجھتے ہیں اور علاج نہیں کراتے۔ جب یہ کینسر اگلی سٹیج پر پہنچ جاتا ہےتو اس کا علاج بہت مہنگا ہو جاتا ہے‘۔ عمر آفتاب نے بتایا کہ بریسٹ کینسر کا خطرہ عمر کے ساتھ ساتھ زیادہ ہوتا جاتا ہے۔

دس سال پہلے محض 2.3 فیصد خواتین بریسٹ کینسر کو جلد رپورٹ کرواتی تھیں جبکہ اب بھی یہ شرح 10 فیصد سے کم ہے۔ عمر آفتاب کہتے ہیں ‘لیکن ہم نے پاکستان میں ایک جو پریشان کن بات دیکھی ہے وہ یہ ہے کہ نوجوان لڑکیاں اس سرطان میں زیادہ مبتلا ہو رہی ہیں۔ جوان لڑکیوں سے مطلب 18 سے 20 سال کی لڑکیاں ہیں۔ اور اس عمر میں کینسر ہونے میں شرح اموات بہت زیادہ ہوتی ہے۔

‘ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نوجوان لڑکیوں میں سرطان کی تعداد کا صحیح اندازہ نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان میں کینسر رجسٹری نہیں ہے۔ ’ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کینسر رجسٹری بنائی جائے جہاں تمام ہسپتالوں سے کینسر کے مریضوں کے اعداد و شمار جمع کیے جائیں۔ اس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ کون سا کینسر کس عمر میں زیادہ ہے اور کون سا کینسر زیادہ بڑھ رہا ہے اور اس بارے میں اقدامات کیے جا سکیں۔’

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں